MOJ E SUKHAN

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا

اس خوش ادا کے آئنہ خانے میں جاؤں گا
پھر لوٹ کر میں اپنے زمانے میں جاؤں گا

رہ جائے گی یہ ساری کہانی یہیں دھری
اک روز جب میں اپنے فسانے میں جاؤں گا

یہ صبح و شام یوں ہی رہیں گے مرے چراغ
بس میں تجھے جلانے بجھانے میں جاؤں گا

یہ کھیل ہے تو خوب مگر تیرے ہاتھ سے
اس ٹوٹنے بگڑنے بنانے میں جاؤں گا

یوں ہی میں خود کو خواب دکھانے میں آ گیا
یوں ہی میں خود کو خواب دکھانے میں جاؤں گا

اکبر معصوم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم