MOJ E SUKHAN

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے

غزل

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے
گھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرے

کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے
کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے

ہر گاؤں سہانا ہو ہر شہر چمک اٹھے
دل کی یہ تمنا ہے پوری ہو مگر کیسے

بپھری ہوئی دنیا نے پتھر تو بہت پھینکے
یہ شیش محل لیکن اے دوست کہاں ٹوٹے

یوں ہی تو نہیں بہتی یہ دھار لہو جیسی
اس بار فضاؤں سے خنجر ہی بہت برسے

کیوں آگ بھڑک اٹھی شاعر کے خیالوں کی
یہ راز کی باتیں ہیں نادان تو کیا جانے

سو بار سنا ہم نے سو بار ہنسی آئی
وہ کہتے ہیں پتھر کو ہم موم بنا دیں گے

پھر گوش تصور میں ابا کی صدا آئی
پھر اس نے در دل پہ آواز دی چپکے سے

اس خاک پہ بکھرا ہے اک پھول ہمارا بھی
جب باد صبا آئے کچھ دیر یہاں ٹھہرے

افسانہ نما کوئی روداد نہیں میری
جھانکا نہ کبھی میں نے خوابوں کے دریچے سے

مشکل ہے یہ دوراںؔ اس بھیڑ کو سمجھانا
مڑ مڑ کے جو رہزن سے منزل کا پتہ پوچھے

اویس احمد دوراں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم