MOJ E SUKHAN

اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھا

اس رات کسی اور قلمرو میں کہیں تھا
تم آئے تو میں اپنے بدن ہی میں نہیں تھا

کیا بزم تھی اس بزم میں کون آئے ہوئے تھے
مہتاب بھی سورج بھی ستارہ بھی وہیں تھا

کچھ نیند سے بوجھل تھیں ترے شہر کی آنکھیں
کچھ میری کہانی میں بھی وہ ربط نہیں تھا

کہتے ہیں کہ رک سی گئی رفتار زمانہ
جب سیر سماوات میں اک خاک نشیں تھا

اے کاش ذرا دیر نہ تم راہ بدلتے
دو چار قدم اور مرا شہر حزیں تھا

ایسے تو نہیں اوج پہ آیا تھا ستم گر
وہ خود بھی حسیں اس کا ستارہ بھی حسیں تھا

میں خال رخ یار پہ دے دیتا سمرقند
لیکن وہ علاقہ بھی مرے پاس  نہیں تھا

طارق نعیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم