MOJ E SUKHAN

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا

اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا
یہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا

ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیاز
اور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا

راکھ پوروں سے جھڑتی گئی عمر کی
سانس کی نالیوں میں دھواں رہ گیا

اب تو رستہ بتانے پہ مامور ہوں
بے ہدف تیر تھا بے کماں رہ گیا

جب پلٹ ہی چلے ہو اے دیدہ ورو
مجھ کو بھی دیکھنا میں کہاں رہ گیا

مٹ گیا ہوں کسی اور کی قبر میں
میرا کتبہ کہیں بے نشاں رہ گیا

انجم سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم