MOJ E SUKHAN

اس شان کرم کا کیا کہنا در پہ جو سوالی آتے ہیں

اس شان کرم کا کیا کہنا در پہ جو سوالی آتے ہیں
اک تری کریمی کا صدقہ وہ من کی مرادیں پاتے ہیں

خالی نہ رہی رحمت سے تری دکھ درد کے ماروں کی جھولی
کیا تیرا کرم ہے در پہ تیری بھر دی ہے ہزاروں کی جھولی

دن رات ہے منگتوں کا پھیرا کیا خوب سکھی ہے در تیرا
ملتی ہے کرم کی بھیک انہیں دامن جو یہاں پھیلاتے ہیں

اس در کی سخاوت کیا کہیے خالی نہ گیا منگتا کوئی
محتاج یہاں جو آتے ہیں وہ جھولیاں بھر کے جاتے ہیں

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم