MOJ E SUKHAN

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

غزل

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی
جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی

اس بار تو پیمانہ اٹھایا بھی نہیں تھا
اس بار تھی رندوں کی خطا اور طرح کی

ہم آنکھوں میں آنسو نہیں لاتے ہیں کہ ہم نے
پائی ہے وراثت میں ادا اور طرح کی

اس بات پہ ناراض تھا ساقی کہ سر بزم
کیوں آئی پیالوں سے صدا اور طرح کی

اس دور میں مفہوم محبت ہے تجارت
اس دور میں ہوتی ہے وفا اور طرح کی

شبنم کی جگہ آگ کی بارش ہو مگر ہم
منصورؔ نہ مانگیں گے دعا اور طرح کی

منصور عثمانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم