MOJ E SUKHAN

اس طرح اعتبار کرتے رہے

غزل

اس طرح اعتبار کرتے رہے
ساری ہستی نثار کرتے رہے

دل جلایا کیے دیے کی جگہ
رنج و غم آشکار کرتے رہے

میری چاہت کو آزمایا کیے
بے رخی اختیار کرتے رہے

ہم تو عہد وفا نبھایا کیے
وہ ہمیں شرمسار کرتے رہے

ان سے اظہار غم گنہ ہی سہی
ہم اسے بار بار کرتے رہے

کیسا وعدہ کیا تھا آنے کا
آج تک انتظار کرتے رہے

پھول کمھلا گئے چمن کے مگر
لوگ جشن بہار کرتے رہے

ہم تڑپتے رہے اداؔ ہر دم
چشم غم اشک بار کرتے رہے

بیگم سلطانہ ذاکر ادا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم