اس طرح زیست کا انداز بدل کر دیکھا
میں نے یخ بستہ ہواؤں میں پگھل کر دیکھا
میرے افکار سے بھی تیز تھی رفتار مری
جسم کے خول سے جب میں نے نکل کر دیکھا
پاؤں جمتے ہی گئے تیرے بدن پر میرے
زندگی! موت کی جانب جو پھسل کر دیکھا
بے وفائی بھی ہوئی اس کی طرف سے یارو
جانبِ زیست بہت میں نے ہے چل کر دیکھا
کس نے افکار کے پھولوں کو مقید رکھا
کس نے جذبات کو ہر آن مسل کر دیکھا
ضبط کی حد سے کبھی بھی نہیں نکلا میں مرادؔ
زہر نفرت کا سبھی اس نے اگل کر دیکھا
شفیق مراد