MOJ E SUKHAN

اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہم

اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہم
اب داغ داغ دل کا نمایاں کریں گے ہم

آئینہ بن کے جائیں گے بزم جمال میں
محفل کے رو بہ رو انہیں حیراں کریں گے ہم

آئے تو وہ بہار دل و جاں نگاہ میں
اک اک نفس کو رشک گلستاں کریں گے ہم

اس بت کو اپنے دل میں بسانے سے پیشتر
پیمائش حرارت ایماں کریں گے ہم

مل جائے ان کا نقش کف پا اگر کہیں
اک اک لکیر جزو رگ جاں کریں گے ہم

احسان وصل یار بھی منظور ہے مگر
آزار ہجر یار کے ارماں کریں گے ہم

اخگرؔ کسی کی یاد میں لازم ہے ایک جشن
خون جگر سے خاطر مژگاں کریں گے ہم

حنیف اخگر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم