MOJ E SUKHAN

اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کی

اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کی
خلق اس کی ہے خدا اس کا خدائی اس کی

کیا خبر تھی کہ یہیں وصل کے سائے کے قریب
دھوپ کے بیچ پڑی ہوگی جدائی اس کی

لے گئے شوق سے مرحوم کی ہر شے احباب
چھوڑ دی طاق کے اوپر ہی اچھائی اس کی

کی ہے افلاس میں دوشیزۂ امید جواں
اب تو بس بیٹھ کے کھانی ہے کمائی اس کی

زندگی کٹتی ہے دونوں کی مسلسل ضد میں
قید ہے میری وہی جو ہے رہائی اس کی

معتبر نام تھا وہ پھر بھی حوالہ نہ دیا
جاں بچانے کو قسم جھوٹی نہ کھائی اس کی

زندگی ساری گنوا دوں یہ ضروری تو نہیں
یہ بہت ہے کہ کوئی بات نبھائی اس کی

یہ محبت نہیں کچھ اور ہے صورت شاہیںؔ
تم مزہ لے کے جو سنتے ہو برائی اس کی

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم