MOJ E SUKHAN

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے

اس طرح گردن پہ خنجر کو لگاتے جائیے
خوں سے آلودہ نہ ہو دامن بچاتے جائیے

حسن زیبا لاکھ نظروں سے بچاتے جائیے
اور کھلتا جائے گا جتنا چھپاتے جائیے

بات اچھی آپ نے سیکھی ہے خوش ہوگا رقیب
وعدے کرتے جائیے سوگند کھاتے جائیے

کوچۂ جاناں میں آداب وفا بھی چاہیے
گردن تسلیم خم ہو سر جھکاتے جائیے

شاہدان باغ کی نازش مٹا دو حسن کے
کچھ تماشائے قد و گیسو دکھاتے جائیے

آپ کا ارشاد ناصح ہم کو ہے دل سے پسند
درد دل کی بھی دوا لیکن بتاتے جائیے

غیر کے سو ناز تم پر اور مجھ پر آپ کے
آپ دبتے جائیے مجھ کو دباتے جائیے

کعبہ و بت خانہ واعظ ہیں نشان دیں فریب
دیکھیں ہمت آپ کی ان کو مٹاتے جائیے

غیر کے گھر میں بھی راقمؔ آج تم ہوتے چلو
ایک چھچھوندر چھوڑ کر کچھ گل کھلاتے جائیے

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم