MOJ E SUKHAN

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ

اس قدر پائمال ہیں ہم لوگ
آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ

بے نیاز ملال ہیں ہم لوگ
لاکھ صید زوال ہیں ہم لوگ

اپنے عصیاں کی شرمساری سے
پیکر انفعال ہیں ہم لوگ

اک فسانہ ہے شوکت ماضی
دیکھ لو خستہ حال ہیں ہم لوگ

بت کدے میں اذاں نہ دیں تو سہی
یادگاری بلال ہیں ہم لوگ

کیوں پریشاں ہے اے دل محزوں
ولت لا زوال ہیں ہم لوگ

ہم سے روشن ہے آسمان ادب
غیرت صد ہلال ہیں ہم لوگ

اک معما ہے زندگی شاطرؔ
کیا انوکھا سوال ہیں ہم لوگ

شاطر حکیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم