MOJ E SUKHAN

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا

اس نے آوارہ مزاجی کو نیا موڑ دیا
پا بہ زنجیر کیا اور مجھے چھوڑ دیا

اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاض
اور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا

جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر
دل کو آنکھوں میں دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا

ہم کو معلوم تھا انجام محبت ہم نے
آخری حرف سے پہلے ہی قلم توڑ دی

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم