MOJ E SUKHAN

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے

اس نے اک دن بھی نہ پوچھا بول آخر کس لیے
تو مرے ہوتے دکھی ہے میرے شاعر کس لیے

سانس لینے پر مجھے مجبور کرتا ہے یہ کون
کیا بتاؤں جی رہا ہوں کس کی خاطر کس لیے

سوچتا ہوں کیوں بکھر جاتی نہیں ہر ایک شے
وہ نہیں ہے تو مرتب ہیں عناصر کس لیے

وہ جو اس کے دل میں ہے کیوں اس کے ہونٹوں پر نہیں
کچھ نہیں تو مجھ سے ملتا ہے بظاہر کس لیے

کس نے ہر شے کو کیا وہم و گماں میں مبتلا
ہو گیا سایہ مرا مجھ سے ہی منکر کس لیے

کون دیکھے گا ہماری خون آمیزی یہاں
آ گئے اندھوں میں ہم رنگوں کے تاجر کس لیے

اب رہا ہی کیا ہے میرے جیب و دامن میں ریاضؔ
آ رہا ہے میرے پیچھے وقت شاطر کس لیے

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم