MOJ E SUKHAN

اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں

غزل

اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں
مارا گیا تھا جنگ میں ہارا نہیں تھا میں

مجھ سے ہی مجھ کو وقت نے تفریق کر دیا
جو تیرے سامنے تھا وہ سارا نہیں تھا میں

میں تیرے چونچلوں پہ انا کیسے بیچتا
اے زندگی غلام تمہارا نہیں تھا میں

پہلو میں ہو جو دل تو ذرا پوچھ کر بتا
کل تک تمہاری آنکھ کا تارا نہیں تھا میں

اس شخص سے نباہ ترا کیوں نہ ہو سکا
جس کی وجہ سے تجھ کو گوارہ نہیں تھا میں

دل ہی مرا نصیرؔ بغاوت پہ تل گیا
باہر کے دشمنوں سے تو ہارا نہیں تھا میں

نصیر بلوچ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم