MOJ E SUKHAN

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر

غزل

اس کو اب یہ خبر کریں کیوں کر
زندگی ہم بسر کریں کیوں کر

تو جفا پر بھی تو نہیں قائم
ہم وفا عمر بھر کریں کیوں کر

چل گئے ہیں رقیب کے فقرے
میری باتیں اثر کریں کیوں کر

پاؤں رکھتا ہے غیر بھی اس پر
سجدۂ سنگ ر کریں کیوں کر

چشم ساقی کے ہم ہیں متوالے
جام مے پر نظر کریں کیوں کر

ہے نزاکت کا اس کی ہم کو خیال
نالۂ با اثر کریں کیوں کر

نالۂ شب کا کیا نتیجہ ہوا
ہم دعائے سحر کریں کیوں کر

شوق پنہاں نے ہم کو مارا ہے
یہ خبر مشتہر کریں کیوں کر

خوف ہے وہ نہ آگ ہو جائے
نالۂ پر شرر کریں کیوں کر

سجدۂ نقش پا روا لیکن
اس کو پامال سر کریں کیوں کر

ہم نہیں بولتے ہیں ناصح سے
بات کو بے اثر کریں کیوں کر

کہیں شرما کے وہ نہ پھر جائیں
ہم نظر سوئے در کریں کیوں کر

میرا لکھا اگر وہ پڑھ نہ سکا
شکوۂ نامہ بر کریں کیوں کر

تیرے شکوے بجا سہی بیدلؔ
لیکن اس کو خبر کریں کیوں کر

بیدل عطیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم