MOJ E SUKHAN

اس کو بھی مجھ سے محبت ہوتے ہوتے رہ گئ

غزل

اس کو بھی مجھ سے محبت ہوتے ہوتے رہ گئ
اک کہانی خوبصورت ہوتے ہوتے رہ گئ

پھر مری حساسیت میں وہم داخل ہو گیا
اور وہ مجھ میں سرایت ہوتے ہوتے رہ گئ

 جنگ مجھ سے جیت کے وہ ہو گئ خود بھی نڈھال
زندگی مالِ غنیمت ہوتے ہوتے رہ گئ

رات اک حیواں نے اس کے مجھ پہ حملہ کر دیا
ختم میری آدمیت ہوتے ہوتے رہ گئ

عشق ہونے کو ہی تھا کہ انت میرا ہو گیا
اور مری پوری ضرورت ہوتے ہوتے رہ گئ

لگ رہا تھا عشق گویا جذب مجھ میں ہو گیا
رات تو مجھ سے کرامت ہوتے ہوتے رہ گئ

پھر اچانک سامنے ہمزاد میرا آ گیا
مجھ کو تنہائ سے رغبت ہوتے ہوتے رہ گئ

اس نے تھپڑ تو اٹھایا تھا مگر مارا نہیں
یوں سمجھئیے کہ قیامت ہوتے ہوتے رہ گئ

پھر اچانک ہی عدالت میں دھماکا ہو گیا
اور بس میری ضمانت ہوتے ہوتے رہ گئ

کچھ ملاقاتیں جو ہونی تھیں ، نہیں وہ ہو سکیں
ہم کو کو اک دوجے کی عادت ہوتے ہوتے رہ گئ

محسن اسرار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم