MOJ E SUKHAN

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا
وہ بھی تو ملے ہم سے ہمیں اس سے ملیں کیا

لشکر کو بچائیں گی یہ دو چار صفیں کیا
اور ان میں بھی ہر شخص یہ کہتا ہے ہمیں کیا

یہ تو سبھی کہتے ہیں کوئی فکر نہ کرنا
یہ کوئی بتاتا نہیں ہم کو کہ کریں کیا

گھر سے تو چلے آتے ہیں بازار کی جانب
بازار میں یہ سوچتے پھرتے ہیں کہ لیں کیا

آنکھوں کو کئے بند پڑے رہتے ہیں ہم لوگ
اس پر بھی تو خوابوں سے ہیں محروم کریں کیا

دو چار نہیں سینکڑوں شعر اس پہ کہے ہیں
اس پر بھی وہ سمجھے نہ تو قدموں پہ جھکیں کیا

جسمانی تعلق پہ یہ شرمندگی کیسی
آپس میں بدن کچھ بھی کریں اس سے ہمیں کیا

خوابوں سے بھی ملتے نہیں حالات کے ڈر سے
ماتھے سے بڑی ہو گئیں یارو شکنیں کیا

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم