MOJ E SUKHAN

اس کی یادوں کا سلسلہ ھو گا

اس کی یادوں کا سلسلہ ھو گا
اس کہانی میں اور کیا ھو گا

جب بچھڑ کر بھی وہ خاموش رہا
گھر پہنچ کر تو رو دیا ھو گا

خود کو سمجھا لیا ھے میں نے مگر
کیا وہ خود بھی بدل گیا ھو گا

اتنا آساں نہ تھا مجھے کھونا
اس نے خود کو گنوا دیا ھو گا

مجھ کو ویران کر دیا جس نے
کہیں آباد تو ھوا ھو گا

سوچتا ھوں جو مجھ کو چاہتا تھا
یاد مجھ کو کر رھا ھو گا

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم