MOJ E SUKHAN

اس کے آنے پہ بھی نہیں آئی

اس کے آنے پہ بھی نہیں آئی
درد میں کچھ کمی نہیں آئی

عمر بھر دوستوں نے محنت کی
پر ہمیں دوستی نہیں آئی

اپنے ہی گھر پہ آ نکلتے ہیں
ہم کو آوارگی نہیں آئی

دوستوں کے کسی لطیفے پر
آج ہم کو ہنسی نہیں آئی

ہم کو بھی شوق زندگی کا تھا
کیا کہیں راس ہی نہیں آئی

اب کے آئی بھی اور گئی بھی بہار
فصل دیوانگی نہیں آئی

زندگی بن گئی عدو سی شجاعؔ
اور ہمیں موت بھی نہیں آئی

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم