MOJ E SUKHAN

اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سن

اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سن
میرے حساب _ذات میں وه تو فلک نشیں نہ گن

فردوس وصل یار میں لاکھوں برس ہیں ایک پل
دشت _فراق میں مگر کٹتا نہیں ہے ایک دن

مرشد کیا ہے قیس کو تو پھر ہمیں ڈرائے کیا
آسیب ہجر کا کوئی ، فرقت مثال کوئی جن

اس نے جو سائبان _عشق سر سے مرے اٹھا لیا
میں نے بھی دھوپ اوڑھ لی صحرا میں آکے اس کے بن

یاران شہر عشق کے رسم و رواج خوب ہیں
جتنی بھی دو وضاحتیں ہوتے نہیں ہیں مطمئن

الفت کے امتحان میں ، ناکام اس لئے ہوے
ہم نے تھی جس کی نقل کی وه تھا ہمارا ممتحن

مقبول یوں ہوا ہوں میں ، ورد زبان ہے مری
صلی اللّه محمدن ، صلی الله محمد ن

مقبول زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم