اس کے بغیر زیست میں جتنے گزارے سال و سن
میرے حساب _ذات میں وه تو فلک نشیں نہ گن
فردوس وصل یار میں لاکھوں برس ہیں ایک پل
دشت _فراق میں مگر کٹتا نہیں ہے ایک دن
مرشد کیا ہے قیس کو تو پھر ہمیں ڈرائے کیا
آسیب ہجر کا کوئی ، فرقت مثال کوئی جن
اس نے جو سائبان _عشق سر سے مرے اٹھا لیا
میں نے بھی دھوپ اوڑھ لی صحرا میں آکے اس کے بن
یاران شہر عشق کے رسم و رواج خوب ہیں
جتنی بھی دو وضاحتیں ہوتے نہیں ہیں مطمئن
الفت کے امتحان میں ، ناکام اس لئے ہوے
ہم نے تھی جس کی نقل کی وه تھا ہمارا ممتحن
مقبول یوں ہوا ہوں میں ، ورد زبان ہے مری
صلی اللّه محمدن ، صلی الله محمد ن
مقبول زیدی