MOJ E SUKHAN

اس کے بن یوں ہوا ہے حال اپنا

اس کے بن یوں ہوا ہے حال اپنا
ہوگیا جیسے انتقال اپنا

عشق کا وہ عجب تھا سوداگر
لے کے دل ، دے گیا رومال اپنا

شدتِ غم سے کھل سکی نہ زباں
نہ بتا پائے اس کو حال اپنا

یوں سبک دوش مجھ سے ہوکے گیا
کہہ گیا رکھنا تم خیال اپنا

ایک لمحہ ہو اک صدی جیسے
ایسا گزرا ہے اب کے سال اپنا

یہ تو ساری عطائیں اسی کی ہیں
ہم میں کچھ بھی نہیں کمال اپنا

کر گیا ہےمجھے وہ رشکِ قمر
دے کے سب حسن اور جمال اپنا

قمرسرور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم