MOJ E SUKHAN

اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

ہے دنیا جس کا نانْو یاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اورسستوں کو سستی ہے

یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں، ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے

کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

جو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملے
جو پان کھلاوے پان ملے، جو روٹی دے تو نان ملے

نقصان کرے نقصان ملے، احسان کرے احسان ملے
جو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کوآن ملے

کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

جو پار اتار دے اوروں کو اس کی بھی نائو اترتی ہے
جو غرق کرے، پھر اس کی بھی یاں، ڈبکوں ڈبکوں کرتی ہے

شمشیر ،تبر، بندوق سناں اور نشتر تیر نہرتی ہے
یاں جیسی جیسی کرتی ہے پھر ویسی ویسی بھرتی ہے

کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

نظیر اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم