MOJ E SUKHAN

اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے

غزل

اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے
کیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائے

جب سے دیکھے ہیں تری آنکھوں کے ساگر ہم نے
اک نئی آرزو ابھری ہے کہ ڈوبا جائے

میں سماعت میں سمیٹے ہوں ہزاروں دشنام
ضبط غم کا ہے یہ ارشاد نہ بولا جائے

ہم کو اس خواب محبت سے جگایا کس نے
نقش چہروں پہ عداوت کا نہ دیکھا جائے

زخم خوردہ نہ کہیں انگلیاں وحشت ہو جائیں
بربط دل کو کسی کے نہ یوں چھیڑا جائے

دل ہے مصلوب انا بام پہ سورج بھی نہیں
کس طرح گھر کے اندھیروں کو اجالا جائے

پاؤں جب خار مغیلاں سے ہیں چھلنی عابدؔ
کیوں نہ پھر آتش نمرود میں اترا جائے

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم