MOJ E SUKHAN

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا

غزل

اظہار غم کو شوق نے آساں بنا لیا
ضبط سخن کو بات کا عنواں بنا لیا

ہم نے بہار رفتہ کی تصویر کے لیے
شاخ مژہ کو شاخ‌ گل افشاں بنا لیا

دیکھا زمانۂ گزراں کو اسی نے خوب
آنکھوں کو جس نے روزن زنداں بنا لیا

ژولیدگی کہ میرے خیالوں کی جان تھی
تم نے اسی کو زلف کا عنواں بنا لیا

جب خود حریف رنگ گلستاں نہ ہو سکے
خود کو حریف رنگ گلستاں بنا لیا

آرائش حریم وفا کے خیال سے
ہر داغ دل کو شمع فروزاں بنا لیا

فطرتؔ حریمِ شوق میں آنا جو تھا انہیں
اشکوں کو ہم نے شمع شبستاں بنا لیا

عبدالعزیز فطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم