MOJ E SUKHAN

اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو

اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو
بن دیکھے اپنے یار کو تم پیار مت کرو

مرضی ہے گرچہ اس کی تو بالکل نکاح کر
جبراٌ کہیں بھی جانے کا اصرار مت کرو

راتوں کو لیٹ سو تے ہیں سونے دو سونے دو
چائے کے واسطے مجھے بیدار مت کرو

سوکھے شجر پہ کوئی پرندہ نہ آئے گا
شاخوں پہ دانے ڈال کے بیکار مت کرو

برسوں کے بعد پیار کی ہلچل ہے آنکھ میں
دریا کے پار چلتے ہیں انکار مت کرو

پتوں سے چھن کے آتی ہے سورج کی روشنی
آنگن کا پیڑ کاٹ کے بیمار مت کرو

روزن سے اپنے دیکھ کے دل کو سکون دے
تابش چھتوں کو پھاند کے دیدار مت کرو

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم