اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو
بن دیکھے اپنے یار کو تم پیار مت کرو
مرضی ہے گرچہ اس کی تو بالکل نکاح کر
جبراٌ کہیں بھی جانے کا اصرار مت کرو
راتوں کو لیٹ سو تے ہیں سونے دو سونے دو
چائے کے واسطے مجھے بیدار مت کرو
سوکھے شجر پہ کوئی پرندہ نہ آئے گا
شاخوں پہ دانے ڈال کے بیکار مت کرو
برسوں کے بعد پیار کی ہلچل ہے آنکھ میں
دریا کے پار چلتے ہیں انکار مت کرو
پتوں سے چھن کے آتی ہے سورج کی روشنی
آنگن کا پیڑ کاٹ کے بیمار مت کرو
روزن سے اپنے دیکھ کے دل کو سکون دے
تابش چھتوں کو پھاند کے دیدار مت کرو
تابش رامپوری