MOJ E SUKHAN

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی

غزل

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی
کہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئی

بیداد حسن یہ ہے تو پھر کیا کرے کوئی
رسوائیوں کے بعد بھی پردہ کرے کوئی

تم بھی کہو تو دل کو بتا دیں اب اس کا حال
اب وقت وہ نہیں ہے کہ پردہ کرے کوئی

کھل جائیں حسن و عشق کی نیرنگیوں کے راز
دیکھوں جو پھر کسی کی تمنا کرے کوئی

بد نامیاں نصیب میں ہیں سب کے ورنہ یاں
کوئی نہ کچھ مٹائے نہ پیدا کرے کوئی

کچھ ایسا حال ہے کسی بیمار عشق کا
وہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ اب کیا کرے کوئی

جھلکے گا اختیار میں محبوبیوں کا رنگ
میری نظر سے گل کا تماشا کرے کوئی

ذروں میں گونجتی ہے صدائے شکست دل
ہے شرط گوش دل کو مگر وا کرے کوئی

جب کچھ سمجھنے دیں نہ کسی کی تجلیاں
پھر کیوں مرے خیال کو رسوا کرے کوئی

ہے ذرہ ذرہ محشر آشوب شوق دیر
اب وقت آگیا ہے کہ پردا کرے کوئی

گم ہو چکی ہے قدرت ابداع آرزو
بیخودؔ حریم ناز تو ہے کیا کرے کوئی

بیخود موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم