MOJ E SUKHAN

الفت کا درد غم کا پرستار کون ہے

غزل

الفت کا درد غم کا پرستار کون ہے
دنیا میں آنسوؤں کا طلب گار کون ہے

خوشیاں چلا ہوں بانٹنے آنسو سمیٹ کر
الجھن ہے میرے سامنے حق دار کون ہے

ضد پر اڑے ہوے ہیں یہ دل بھی دماغ بھی
اب دیکھنا ہے ان میں اثر دار کون ہے

پہلے تلاش کیجئے منزل کی رہ گزر
پھر سوچیے کہ راہ میں دیوار کون ہے

کانوں کو چھو کے گزری ہے کوئی صدا ابھی
یہ کون آہ بھرتا ہے بیمار کون ہے

اس پار میں ہوں اور یہ ٹوٹی ہوئی سی ناؤ
آواز دے رہا ہے جو اس پار کون ہے

گوند گلشن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم