MOJ E SUKHAN

انتہائے عاشقی ہے آج کل

انتہائے عاشقی ہے آج کل
خود انہیں بھی بے کلی ہے آج کل

جتنا پانی ڈالئے بھڑکے گی اور
آگ وہ دل میں لگی ہے آج کل

وہ نہیں گویا کہ دنیا ہی نہیں
زندگی بے لطف سی ہے آج کل

سنتا ہوں بے چین ہیں میرے بغیر
گویا قسمت جگ گئی ہے آج کل

وہ مجسم زندگانی ہیں میری
مجھ میں ان سے روشنی ہے آج کل

وہ نہیں تو کچھ بھی دنیا میں نہیں
جیسے ان سے زندگی ہے آج کل

کیا محبت کی ہوائیں چل گئیں
مجھ میں ساقیؔ زندگی ہے آج کل

ساقی کاکوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم