MOJ E SUKHAN

اندھیرے میں بلا سی

غزل

اندھیرے میں بلا سی
اداسی ہی اداسی

کسی کے تن کی خوشبو
پھرے اڑتی ہوا سی

محبت کو زباں دی
خموشی کی دعا سی

وہی انساں درندہ
مگر صورت جدا سی

یہ بے قابو طبیعت
لگے پیاری خطا سی

چڑھی امڑی جوانی
نئی رت کی گھٹا سی

کھلی خواہش کی کونپل
بہت کمسن ذرا سی

دیپک قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم