MOJ E SUKHAN

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں

غزل

انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیں
وہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیں

جو لوگ محبت میں گرفتار نہیں ہیں
وہ لوگ حقیقت کے پرستار نہیں ہیں

دنیا میں میسر ہے ابھی جنس محبت
صد حیف کہ پہلے سے خریدار نہیں ہیں

ٹوٹے ہیں نہ ٹوٹیں گے کبھی بوجھ سے غم کے
نازک ہیں مگر ریت کی دیوار نہیں ہیں

دل شوق سے دیں آپ مگر سوچ سمجھ کر
دنیا میں سبھی لوگ وفادار نہیں ہیں

جب عزم سفر کر ہی لیا آؤ چلیں ہم
طوفان کے تھمنے کے تو آثار نہیں ہیں

چڑھتا ہے کنولؔ کون صلیبوں پہ خوشی سے
سب لوگ مسیحا کے تو اوتار نہیں ہیں

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم