MOJ E SUKHAN

انصاف کی گردن پر خنجر خود چلتے دیکھا کیا کہیے

غزل

انصاف کی گردن پر خنجر خود چلتے دیکھا کیا کہیے
احباب پرستی کے چکر میں پڑ گئی دنیا کیا کہیے

پھر ذکر صداقت چھیڑ کے اپنی جان کا دشمن کون بنے
دنیا کی نگاہوں نے دیکھا دنیا کا تماشا کیا کہیے

وہ دیکھ ہوس کے دوش پہ شاید عشق کی میت جاتی ہے
اب اس دنیا میں کیا ہوگا اہل وفا کا کیا کہیے

جو آج سنہری پردوں میں چہروں کو چھپائے بیٹھے ہیں
تقدیر کے ماروں سے ان کا کل وعدہ کیا تھا کیا کہیے

جس بستی میں انسانوں کا دل غم کے ہاتھوں چھلنی ہو
اس بستی میں بسنے والوں کے دل کی تمنا کیا کہیے

کچھ لوگ یہاں ہیں ایسے بھی کل سب کچھ تھے اب کچھ بھی نہیں
باقی ہے فقط تنہائی میں اشکوں کا سہارا کیا کہیے

غیروں کے ستم سے بچ نکلے اپنوں کے کرم سے بچ نہ سکے
ایسے میں اگر مجبور کرے غیرت کا تقاضا کیا کہیے

کہتے ہیں گذشتہ دور کو پھر تاریخ جہاں دہراتی ہے
کس دھن میں گاتا پھرتا ہے تقدیر کا دھارا کیا کہیے

دنیا میں جی سے جائے گا کون امن عالم کی خاطر
یہ وقت بتائے گا بیٹھے کس کروٹ دنیا کیا کہیے

ہر ایک مجاہد سے لاکھوں امیدیں ہیں مظلوموں کو
اس ٹوٹی ناؤ کا کون بنے کس وقت سہارا کیا کہیے

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم