MOJ E SUKHAN

انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں

غزل

انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں
سو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیں

جو ننگ شعر ہیں ننگ ادب ہیں رسوا ہیں
خدا کا شکر مرا ان میں نام کوئی نہیں

ہر ایک شعر خدا کی عطا سے ہوتا ہے
اے میرے دوست یہاں حرف خام کوئی نہیں

کہیں سے ملتی ہے خیرات سب کو لفظوں کی
یہاں وگرنہ سخن کا امام کوئی نہیں

سبھی بدن کے پجاری سبھی ہوس کے غلام
قلم قبیلے میں سیتا کا رام کوئی نہیں

یہ لوگ کون سی شہرت کی بات کرتے ہیں
جب اس جہاں میں کسی کو دوام کوئی نہیں

وہ خود ہی کرتے ہیں اپنا مقام طے واصفؔ
جو جانتے ہیں کہ ان کا مقام کوئی نہیں

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم