ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی
غائبانہ ملاقات ہوتی رہی
۔
ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے
خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی
۔
کاسۂ چشم لبریز ہوتی رہی
اس دریچے سے خیرات ہوتی رہی
۔
دل بھی زور آزمائی سے ہارا نہیں
گرچہ ہر مرتبہ مات ہوتی رہی
۔
سر بچائے رہا صبر کا سائباں
آسماں سے تو برسات ہوتی رہی
۔
گو محبت سے ہم جی چراتے رہے
زندگی بھر یہ بد ذات ہوتی رہی
۔
شہر بھر میں پھرایا گیا قیس کو
کوچے کوچے مدارات ہوتی رہی
۔
جاگتے اور سوتے رہے ہم شعورؔ
دن نکلتا رہا رات ہوتی رہی
انور شعور