MOJ E SUKHAN

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

غائبانہ ملاقات ہوتی رہی

۔

ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے

خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی

۔

کاسۂ چشم لبریز ہوتی رہی

اس دریچے سے خیرات ہوتی رہی

۔

دل بھی زور آزمائی سے ہارا نہیں

گرچہ ہر مرتبہ مات ہوتی رہی

۔

سر بچائے رہا صبر کا سائباں

آسماں سے تو برسات ہوتی رہی

۔

گو محبت سے ہم جی چراتے رہے

زندگی بھر یہ بد ذات ہوتی رہی

۔

شہر بھر میں پھرایا گیا قیس کو

کوچے کوچے مدارات ہوتی رہی

۔

جاگتے اور سوتے رہے ہم شعورؔ

دن نکلتا رہا رات ہوتی رہی

انور شعور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم