MOJ E SUKHAN

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی
اپنی انا کا منظر دیکھوں گی میں بھی

کوئی مرے بارے میں نہ کچھ بھی جان سکے
اب ایسا لہجہ اپناؤں گی میں بھی

آنکھوں سے چن کر سب ٹوٹے پھوٹے خواب
پتھر کی خواہش بن جاؤں گی میں بھی

میں خود اپنی سوچ کی مجرم ٹھہری ہوں
اب یہ عدالت خود ہی جھیلوں گی میں بھی

کس کس رنگ میں الہامات اترتے ہیں
کس کس کی رودادیں لکھوں گی میں بھی

تصویروں کے مدھم رنگ بتاتے ہیں
اپنے کو پہچان نہ پاؤں گی میں بھی

دکھ میں حمیراؔ اپنی حفاظت کرنے کو
پچھلے سبھی آسیب بلاؤں گی میں بھی

حمیرہ رحمان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم