MOJ E SUKHAN

ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاں

غزل

ان پتھروں کے شہر میں دل کا گزر کہاں
لے جائیں ہم اٹھا کے یہ شیشے کا گھر کہاں

ہم اپنا نام لے کے خود اپنے ہی شہر میں
گھر گھر پکار آئے کھلا کوئی در کہاں

جیسے ہر ایک در پہ خموشی کا قفل ہو
اب گونجتی ہے شہر میں زنجیر در کہاں

ہر وقت سامنے تھا سمندر خلوص کا
لیکن کسی نے دیکھا کبھی ڈوب کر کہاں

جو چاہو بھی تو جسم سے نکلو گے کس طرح
محبس میں سانس کے کوئی دیوار و در کہاں

اس سخت دوپہر میں کہاں جا کے بیٹھیے
راہوں میں دور تک صباؔ کوئی شجر کہاں

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم