MOJ E SUKHAN

ان کی قسمت میں اگر چاند ستارے ہونگے

ان کی قسمت میں اگر چاند ستارے ہونگے
بال ہنس ہنس کے فرشتوں نے سنوارے ہونگے

آج تفریح کو چلتے ہیں کسی ساحل پر
مست منظر جہاں دریا کے کنارے ہونگے

حٌور تو حُور فرشتے بھی دعائیں دیں گے
کتنے پر کیف وہ جنت کے نظارے ہونگے

وقت سب کے کبھی یکساں نہیں رہتے ہیں جناب
وقت اچھے جو تمہارے تھے ہمارے ہونگے

بیچ جنگل میں کہیں ڈالدیں خیمے کے حصار
چاندنی رات میں بانہوں کے سہارے ہونگے

نام پیڑوں پہ کبھی لکھ کے چلے آئے تھے
یاد آجا ئے گا جو وقت گزارے ہونگے

صنف نازک کی ادائیں ہیں قیامت تابش
ایسے ماحول میں کتنے ہی کنوارے ہونگے

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم