MOJ E SUKHAN

ان کی محفل میں جب بلائے گئے

ان کی محفل میں جب بلائے گئے
ہم جو پہنچے تو ظلم ڈھائے گئے

زخم کھا کھا کے اپنے سینے پر
لب پہ مسکان ہم سجائے گئے

جس طرح سے وہ ظلم ڈھاتے ہیں
وار ہم سے نہ یوں چلائے گئے

وار کاری لگا تھا خنجر کا "
اور ہم تھے کہ مسکرائے گئے”

ہم تو خود کو تسلی دیتے رہے
وہ مگر ہم کو بس رلائے گئے

ہم کہ ان کی طرح نہیں مفسد
نیک رستہ تو ہم دکھائے گئے

پھول چاہت وفاؤں کے سلمیٰ
خار زاروں میں بھی اگائے گئے

سلمی رضا سلمیٰ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم