MOJ E SUKHAN

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں

غزل

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں
خوابوں میں آئیں وہ کہ ذرا شب بسر کریں

پردہ اٹھا حجاب اٹھا کوئی بات کر
سوئے ہوئے بدن کو جگا شب بسر کریں

تو نیند ہے چراغ ہے تو دل کا چین ہے
تیرے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں

چپ چاپ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں ہم
اے چاند کوئی بات بنا شب بسر کریں

کرتی ہوں میں بھی جسم جلانے کا فیصلہ
تو بھی مگر چراغ بجھا شب بسر کریں

جب زندگی عذاب کی صورت ہو ہجر میں
اس حالت خراب میں کیا شب بسر کریں

ماہینؔ کہہ رہا ہے مرا یار بے وفا
دل کے دئے کی لو کو بڑھا شب بسر کریں

اک عمر ہو گئی ہے بسر شب کئے ہوئے
ماہینؔ روٹھا یار منا شب بسر کریں

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم