MOJ E SUKHAN

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح

غزل

ان کے گیسو کی طرح اپنے خیالوں کی طرح
ہم بکھرتے رہے دنیا میں اجالوں کی طرح

ہم تو اخلاص و محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھے
دیکھتا کوئی ہمیں دیکھنے والوں کی طرح

ہم سے پابندیٔ آداب محبت نہ ہوئی
بات بھی ان سے اگر کی ہے تو نالوں کی طرح

میں ہی اک گردش دوراں سے پریشان نہیں
ساری دنیا ہے پریشاں ترے بالوں کی طرح

میں کسی غم کسی طوفان سے مایوس نہیں
زندگی میں نے گزاری ہے جیالوں کی طرح

کوئی تو بات ہے اے شوقؔ چھپاتے کیوں ہو
بے سبب آنکھ چھلکتی نہیں پیالوں کی طرح

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم