MOJ E SUKHAN

اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا

غزل

اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا
صرف تیرا ہی راستہ دیکھا

اس نے سورج سے چار کیں آنکھیں
جس نے منظر تھا رات کا دیکھا

سسکیاں چاند کی سنیں ہم نے
جب ستاروں کو ٹوٹتا دیکھا

میرے دامن میں پیاس کتنی تھی
میں نے دریا کا راستہ دیکھا

حسن دیکھا تو انگلیاں کاٹیں
کیا کریں گے اگر خدا دیکھا

ہر شکن پھوٹ پھوٹ کر روئی
رات پھر خواب کربلا دیکھا

عکس اپنا دھواں دھواں پایا
آج طارقؔ جب آئنہ دیکھا

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم