MOJ E SUKHAN

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا
ظلم کرنے والوں کی وردیاں جلا دینا

ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہے
دیکھنے میں آساں ہے بستیاں جلا دینا

دربدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
بیلچے اٹھا لینا، ڈگریاں جلا دینا

موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا

پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا

ظلم کے اندھیروں سے تم نہ ہارنا منظر
جب چراغ بجھ جائے، انگلیاں جلا دینا

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم