MOJ E SUKHAN

اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے

غزل

اٹھا کے در سے سر رہ بٹھا دیا ہے مجھے
مرے سوال سے پاگل بنا دیا ہے مجھے

کچھ اس طرح سے کہا مجھ سے بیٹھنے کے لیے
کہ جیسے بزم سے اس نے اٹھا دیا ہے مجھے

نہ خود ہی چین سے بیٹھے نہ مجھ کو بیٹھنے دے
مرے خدا نے ستارہ بھی کیا دیا ہے مجھے

مری سمائی نہ صحرا میں ہے نہ گھر میں ہے
نیا یہ مژدۂ وحشت سنا دیا ہے مجھے

میں اپنے ہجر میں تھا مبتلا ازل سے مگر
ترے وصال نے مجھ سے ملا دیا ہے مجھے

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم