MOJ E SUKHAN

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے

اٹھی ہے جو قدموں سے وہ دامن سے اڑی ہے
کیا کیا نگہ شوق پہ زنجیر پڑی ہے

وہ یاس کا عالم ہے کہ ہر ایک نظر پر
محسوس یہ ہوتا ہے جدائی کی گھڑی ہے

یوں دیکھیے تو مرحلۂ شوق ہے یک گام
چلیے تو یہی ایک قدم راہ کڑی ہے

ہر ایک قدم پر ہے کسی یاد کا سایہ
ہر راہ گزر میں کوئی دیوار کھڑی ہے

ہر غنچے کے چہرے سے ابھرتے ہیں ترے نقش
ہر گل میں ترے حسن کی تصویر جڑی ہے

کھیلی تھی کبھی حسن سے تیرے نگہ شوق
اتنا ہے تجھے یاد یہی بات بڑی ہے

ناصح تری باتوں سے کٹی ہجر کی یہ شام
اک اور فسانہ کہ ابھی رات پڑی ہے

کیا جانئے کیا تھا ترا انداز تبسمؔ
ہر دیکھنے والے کی نظر مجھ پہ پڑی ہے

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم