MOJ E SUKHAN

اپنا اپنا دکھ بتلانا ہوتا ہے

غزل

اپنا اپنا دکھ بتلانا ہوتا ہے
مٹی سے تصویر میں آنا ہوتا ہے

میری صبح ذرا کچھ دیر سے ہوتی ہے
مجھے کسی کو خواب سنانا ہوتا ہے

نئے نئے منظر کا حصہ بنتا ہوں
جیسے جیسے جسم پرانا ہوتا ہے

اک چڑیا مجھ سے بھی پہلے اٹھتی ہے
جیسے اس کو دفتر جانا ہوتا ہے

یار کتابیں کتنی جھوٹی ہوتی ہیں
ان میں کوئی اور زمانہ ہوتا ہے

گھر کے اندر اتنی گلیاں پڑتی ہیں
کبھی کبھار ہی باہر جانا ہوتا ہے

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم