MOJ E SUKHAN

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں

غزل

اپنی آنکھیں جو بند کر دیکھوں
سبز خوابوں کا میں سفر دیکھوں

ڈوبنے کی نہ تیرنے کی خبر
عشق دریا میں بس اتر دیکھوں

بعد اس کے نہیں خبر کیا ہے
آئنے تک تو چشم تر دیکھوں

دل میں بجتا ہوا دھڑکتا ہوا
اپنی تنہائی کا گجر دیکھوں

بین کرتی ہوئی بہاروں میں
خود میں اک شور خیر و شر دیکھوں

خواب کی لہلہاتی وادی میں
خوشبوؤں سے بنا نگر دیکھوں

آسماں لے رہا ہے انگڑائی
تتلیوں کے نگر میں ڈر دیکھوں

موجۂ گل کے ہاتھ میں لپٹی
عاصمہؔ دشت کی خبر دیکھوں

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم