MOJ E SUKHAN

اپنی خلوت میں بلا خوف میں اکثر رویا

اپنی خلوت میں بلا خوف میں اکثر رویا
میرے رونے پہ مرے ساتھ مقدر رویا

اس کے جاتے ہوئے قدموں میں اک طوفان اٹھا
شدتِ غم سے مرا دل جو بلک کر رویا

اس کی محفل سے نکل جاؤں گا لیکن پھر وہ
اس طرح روئے گا جیسے کوئی پتھر رویا

پھر خزاں نے کیا برباد مرے دل کا چمن
پھر بہاروں کی طلب میں دلِ قیصر رویا

رانا خالد محمود قیصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم