MOJ E SUKHAN

اپنے آنگن میں ہی جی غیر کے باغوں پہ نہ جا

اپنے آنگن میں ہی جی غیر کے باغوں پہ نہ جا
روشنی کم ہے تو مانگے کے چراغوں پہ نہ جا

میری مسکان سمجھ لے تو یہی کافی ہے
تو میرے زخم نہ گن قلب کے داغوں پہ نہ جا

وہ جو غیور ہیں غربت کو چھپا رکھتے ہیں
ان کی مجبوری سمجھ اور سراغوں پہ نہ جا

پیٹھ پر وار جو کرتے ہیں منافق ہیں وہی
ان کو بھی دور ہی رکھ ایسے فراغوں پہ نہ جا

جھوٹی بنیاد پر کرتے ہیں عمارت کو بلند
ان سے ہشیار بھی رہ ایسے بلاغوں پہ نہ جا

تجھ کو آنا ہے تو آ شیر کی فطرت کی طرف
مردہ خوری پہ مچلتے ہوئے زاغوں پہ نہ جا

من کے سچّوں کو کلیجے سے لگالے کاوش
سازشیں کرتے ہیں جو ایسے دماغوں پہ نہ جا

کاوش کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم