MOJ E SUKHAN

اپنے افسردہ خیالات پہ ہنس دیتے ہیں

اپنے افسردہ خیالات پہ ہنس دیتے ہیں
کتنے ہی ایسے مقامات پہ ہنس دیتے ہیں

آنکھ بھر آتی ہے جب بھی کسی محرومی پر
ہم اداکار ہیں، حالات پہ ہنس دیتے ہیں

لوگ ہنستے ہیں مسرت کے کسی لمحے میں
ہم ہیں وہ لوگ جو صدمات پہ ہنس دیتے ہیں

توڑ کر ضبط، چھلک جاتی ہے جب آنکھ، تو پھر
اپنی ہی آنکھ کی برسات پہ ہنس دیتے ہیں

ہم بھی کیا لوگ ہیں، واجب ہے ہمارے اوپر
رونے والی بھی ہر اک بات پہ ہنس دیتے ہیں

ہجر میں نغمہ سرائی میں کبھی روتے ہیں
اور پھر اپنے ہی نغمات پہ ہنس دیتے ہیں

ہونے زریؔاب مقابل کسی آئینے کے
اپنی آنکھوں کی کرامات پہ ہنس دیتے ہیں

ہاجرہ نور زریاب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم