Apnay Khwaboo Kay jo qatil Say ulajh Bethay Hain
غزل
اپنے خوابوں کے جو قاتل سے الجھ بیٹھے ہیں
یوں سمجھ لو کہ کسی سِل سے الجھ بیٹھے ہیں
مسئلہ کوزہ گروں کو بھی یہ درپیش تھا دوست
یہ مصور بھی ترے تل سے الجھ بیٹھے ہیں
دل ستم گر کے مخالف نہیں ہو سکتا کبھی
ایسا لگتا ہے کہ جاہل سے الجھ بیٹھے ہیں
ہم تو رہتے ہیں لڑائی سے بہت دور ہی اب
آپ کس واسطے بزدل سے الجھ بیٹھے ہیں
ہم محبت کو جو آسان سمجھ بیٹھے تھے
اب یہ سمجھے ہیں کہ مشکل سے الجھ بیٹھے ہیں
تشنگی دید کی زہرا نہ کبھی ختم ہوئی
دشت زادے کسی ساحل سے الجھ بیٹھے ہیں
زہرا بتول زہرا
Zehra Batool Zehra